روش تلاوت مقام صبا...

خرید بک لینک
ادب مولا علی علیہ السلام کی نگاہ میںترجمہ: محمد علی حافظ____________________گفتار و کردار میں شائستگی اور خوبصورتی کو ملحوظ نظر رکھنا ادب کہلاتا ہے، ناشائستہ الفاظ اور توہین آمیز رویوں سے دوری، دوسروں کے احترام اور حقوق کی رعایت کرنا ، اور جو چیزیں انسانی وقار اور زینت کی وجہ بنتی ہیں ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھنا ادب کی علامات ہیں، ادب، مال و دولت سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہے:ادبِ مرد، ز دولت اوست،۱ مودبانہ انداز میں میل ملاقات کرنے سے دوسرے بھی آداب کا خیال رکھیں گے، امام علیؑ کے فرمان کے مطابق ادب کی مانند کوئی میراث نہیں: لَا مِيرَاثَ كَالْأَدَبِ۔۲ اگر کوئی باپ اپنی اولاد کو با ادب بنانے میں کامیاب ہو جائے تو گویا وہ دنیا میں ایک عظیم سرمایہ چھوڑ کر جا رہا ہے، اس کی اولاد کے لیے باپ کی جانب سے ملنے والا بہترین ارث اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔دوسروں کے غلط کاموں یا ناشائستہ رویوں سے ہم بیزار ہوتے ہیں خود کو مؤدب بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جو چیزیں ہمیں دوسروں میں بری لگتی ہیں ان سے ہم خود دوری اختیار کریں، امام علیؑ فرماتے ہیں : كَفاك أدَبا لِنَفسِك اِجتنابُ ما تَكرَهُهُ مِن غَيرِك؛۳ اپنے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو اس سے خود بھی پرہیز کرو۔ اسی طریقہ کار کو اپنا تے ہوئے ہم اپنی اولا د کو بہترین اخلاق سے مزیّن کر سکتے ہیں۔ ادب ہی بہترین زینت ہے اس بارے میں امامؑ فرماتے ہیں: الاْدَابُ حُلَلٌ مُجَدَّدَۃٌ؛۴ آداب ہمیشہ تازہ رہنے والی خلعت ہیں۔رفتار میں اچھائی اور رہن سہن میں ادب کا خیال رکھنے سے زندگی میں ہمیشہ تازگی رہتی ہے، ہمیشہ اچھائی کرنے سے اچھائی کی قیمت میں کمی نہیں آتی ہے،ادب معاشرے کے ہر طبقے کے روش تلاوت مقام صبا......

ما را در سایت روش تلاوت مقام صبا... دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 23 تاريخ: چهارشنبه 6 دی 1402 ساعت: 3:19

خوش اخلاقی کی ضرورتعنوانترجمہ و تحقیق: محمد علی حافظمومن کی بہترین صفات میں سے ایک صفت حسن خلق اور اچھا اخلاق ہے، اچھا اخلاق انسان کے لیے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہے کیونکہ اچھا اخلاق ہی مومن کو لوگوں کی نگاہوں میں محبوب بناتا ہے، امام علیؑ اس عظیم نعمت کے بارے میں فرماتے ہیں: كَفى بالقَناعَةِ مُلكا ، و بحُسنِ الخُلقِ نَعيما؛[1] قناعت سے بڑھ کر کوئی بادشاہی نہیں اور خوش خلقی سے بڑھ کر کوئی عیش و آرام نہیں ہے۔ قناعت کرنے والوں کی زندگی فقرو فاقہ کی حالت میں بھی شاہانہ ہوتی ہے،اور خوش اخلاق افراد کی باتوں میں عجب تاثیر ہوتی ہے، لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے خاص محبت ہوتی ہے، احادیث میں خوش خلقی اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی رعایت کرنے کے حوالے سے کافی تاکید ہوئی ہے، خوش اخلاق شخص خدا کے نزدیک راتوں کو عبادت میں جبکہ دن کو روزے کی حالت میں گزارنے والوں کے برابر مقام رکھتا ہے۔[2]بردباریحسن خلق کے آثار میں سے ایک بردباری ہے، امام علیؑ کا ارشاد گرامی ہے کہ: إنْ لَم تَكُن حَليما فَتَحَلَّمْ ؛ فإنَّهُ قَلَّ مَن تَشبَّهَ بقَومٍ إلّا أوْشَكَ أنْ يكونَ مِنهُم؛[3] اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر بردبار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہےکہ کوئی شخص کسی جماعت سے شباہت اختیار کرئےاور ان میں سے نہ ہو جائے۔یعنی اگر کسی شخص کے اندر بردباری اور حسن خلق کا عنصر نہیں پایا جاتا ہے، تو وہ ظاہری طور پر بردبار اور خوش اخلاق افراد کی طرح اپنا کردار بنانے کی کوشش کرئے تو آہستہ آہستہ اس کے اندر بردباری اور خوش اخلاقی کی جڑ پکڑے گی، پھر یہ دونوں صفات اس کی خصلتوں کا حصہ بنیں گی۔غصّہ قابو میں رکھناغصّے کو پی جانا یا بے جا غصّہ نہ ہونا اور اپنے غصے کو قابو میں رکھنا بھی خوش خلقی کے آثار میں سے ہیں، روش تلاوت مقام صبا......

ما را در سایت روش تلاوت مقام صبا... دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 22 تاريخ: چهارشنبه 6 دی 1402 ساعت: 3:19

صفحه بندی